Adab Chor Motivational based Informative Article by Sehar Momina

کالم

ادب چور

از قلم

سحر مومنہ

پہلے زمانے میں چور الفاظ بہت سنا ہوگا بجلی چور ،پانی چور۔ لیکن ادب چور شاید کسی نے سنا ہو یا نہ سنا ہو دیکھا نہیں ہوگا ۔پر آج کل سب سے زیادہ یہی چور پائے جاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں جس قدر مہنگائی بڑھ رہی اس طرح رائٹرز کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ۔آج کل جو کہیں سے کوئی کہانی سنتا ہے اس کو لکھ کر اپنا نام دے دیتا ہے۔ مطلب آج کل رائٹر ہونا جیسے کوئی مئسلہ ہی نہیں ہے۔ اس کی کہانی اٹھائی ،اس کی نظم اٹھائی ،اس کے اقوال کی لائن لی اور لگایا اپنا نام اور کہہ دیا یہ تو میں نے لکھی ہے جی۔۔ یہ تو میری تحریر ہے ۔۔۔

جب ان سے کہا جاتا ہے یہ ہماری نظم ہے ،کہانی ہے ،یا یہ کہا جائے کے ہم نے پہلے سے کہیں پڑھ رکھی ہے۔۔ مجال ہے جو وہ مان جائیں الٹا دوسروں کو قصوروار ک ٹھہراتے ہیں۔ ایسے لوگ ایسے ادب چوروں کی وجہ سے ادب کا نام ہی خراب ہو کر رہ گیا ہے۔

اب تو ادب کے سارے اصول و ضوابط قوانین سب ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب تو کچھ رہ گیا تو بس ادب کا نام رہ گیا اور ایسے رائٹرز رہ گئے ہیں جو دوسروں کی کہانیاں ،نظم وغیرہ چوری کر کے اپنا لگا دیتے ہیں۔

ان کو کوئی روکنے والا بھی نہیں ہے ۔اگر یہاں کوئی ایسے ادب چوروں کو غلط کہنے کی ہمت کرتا ہے تو الٹا اس کو سنایا جاتا ہے۔۔ اس کو ہی نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ غلط ہیں ۔۔۔اس بندے کو سمجھانا چاہیے تھا۔ سوچنے والی بات ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی تو کیا یہ ایسے کسی تحریر کو اپنا کر کے دیتے؟

ایسے لوگوں میں اگر سمجھ نام کی کوئی چیز ہوتی تو ایسا کرتے ہی نہیں اگر کرتے ہیں بھی تو کیا انکو انکا ضمیر جھنجھوڑتا نہیں ہے ؟کیا ایسے لوگوں کا ضمیر بلکل ہی مر چکا ہے ۔مجھے حیرت ہوتی ہے ضمیر مر جانے کے بعد لوگ زندہ کیسے رہ لیتے ہیں؟

شاید اب مرے ہوئے ضمیر والے ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔۔ جن کے ضمیر زندہ ہوتے ہیں ان کو ایسے بے ضمیر لوگ ہی مار دیتے ہیں۔۔ میں نے جب سے ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے دو سال ہونے کو ہے پر ایک ادب چور سے کل واسطہ پڑا۔ حیرت کا جھٹکا تو مجھے تب لگا جب وہ ادب چور اپنی چوری ماننے سےانکاری تھا۔۔

دوسرا جھٹکا مجھے تب لگا جب وہ چور غلط ہوتے بھی صحیح رہا پر جب میں نے اور میری ایک بہت قابل دوست نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو ہمیں ہی غلط کہا گیا ۔۔۔

آج کل غلط کو غلط کہنے کے لیے ہمت چاہیے ہوتی ہے۔ اور جو یہ ھمت کرتا ہے وہ یا تو نصیحت سنتا ہے یا پھر ذلیل ہوتا ہے۔۔ مطلب غلط کو غلط نہ کہو یہاں سچ کو پی جاؤ دوسروں کے جھوٹ دیکھ کر خاموش رہو ۔۔

اب یہ رہ گیا ادب میں ادب بس نام کا ادب رہ گیا ہے ۔اور کچھ نہیں بہت دکھ اور افسوس کی بات ہے یہ ان ادب چور نے ادب کو اور ادیب کو مزاق بنایا ہوا ہے۔ ادب کی اب بے ادبی ہو رہی پر کوئی آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔

مجھے حیرت اس بات پر ہے ہمارے اخبارات رسالے ایسے لوگوں کی تحریریں شائع کر بھی رہے ہیں ۔ان کو کہا کچھ نہیں جارہا ہے الٹا ان کو سپورٹ کیا جارہا ہے ۔۔آئے دن نئے اخبارات رسالے آرہے ہیں کوئی اس بات پر توجہ نہیں دے رہا ہے ایک تحریر اپنے پاس پہلے آئی ہے اس کو اپنے شائع بھی کیا ہے۔۔

کچھ عرصے بعد وہی تحریر تھوڑی سی ردو بدل کے ساتھ آپ کے پاس آئی ہے کسی دوسرے کے نام سے اور اپ نے وہ بھی شائع کردی ہے۔۔

سوچنے والی بات یہ ہے یہاں غلطی کس کس کی ہے ؟پہلے ادیب کی جس نے اپنی تحریر آپ کو دی ؟یا دوسرے ادیب کی جس نے چوری کی پھر وہی آپ کو دی ؟یا خود اپنی غلطی ہے یہ کہ اپنے نظر ثانی نہ کرتے ہوئے واپس اس کو شائع کیا ہے …

یہاں غلط کون ہوا پھر ؟؟وہ ادیب جس کی تحریر ہے ۔وہ ادب چور ؟؟یا شائع کرنے والا اخبار یا رسالہ ؟؟یا میرے جیسا کوئی آواز اٹھانے والا ؟؟میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں مجھے نہیں پتہ یہ شائع ہوگئی کہ بھی یا نہیں کتنے لوگ اس کو پڑھ کر میرے ساتھ قدم اٹھائیں گے۔۔

ان ادب چوروں کو روکیں گے۔ کیوں کہ یہ ایک میرا مسئلہ نہیں ہم ادب سے منسلک سب ادیبوں کا مسئلہ ہے ۔۔ سب پہلے تو یہ کام اخبارات رسالے والوں کا ہے کہ وہ ہر تحریر کو جانچ پرکھ کر پھر شائع کریں۔۔

اگر وہ تحریر چوری کی ہوئی ہے تو ایسے ادب کو برخاست کریں۔ کیونکہ ادب میں بے ادبوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔۔قدم اٹھائے ادب کو بچائیےادب چور سے ادب کو پاک کروائیے۔

دعاگو سحر مومنہ

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Verified by MonsterInsights