Anokhi Ladli famous social based urdu novel by Aqsa Kanwal

عنوان::انوکھی لاڈلی

تحریر::اقصٰی کنول

نہیں امی زندگی ایسے تھوڑی نہ گزرتی ہے ہر وقت سر پر لوگوں کی سوچ سوار رکھ کر جب اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے تو لوگوں سے کیوں ڈریں….

“لوگ بس لوگ ہوتے ہیں ہماری طرح آج ہیں کل نہیں ہوں گے”

“ہمیشہ کی طرح زنیرہ نان سٹاپ بولے فرزانہ بیگم کو لاجواب کر گئی تھی…

افففف زونی ہر بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے بیٹا کل کو دوسرے گھر جاؤ گی وہاں یہ سب نہیں چلے گا سسرال جا کر ہر بیٹی اپنے سسرال والوں کے مطابق دوسرا جنم لیتی ہے یہ رشتہ ہی ایسا ہے ہر لڑکی کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے…. “

” امی جان لڑکی کے لیے زندگی سسرال یا میکے میں گزارنا مشکل نہیں ہوتی ایک لڑکی کی زندگی شادی سے پہلے بھی معاشرے میں گزارنا مشکل ھوتی ھے اور شادی کےبعدبھی معاشرے میں ہی گزارنا مشکل ہوتی ہے. سسرال میں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا کہ زندگی گزارنا مشکل لگے…

زندگی کہیں بھی گزارنا مشکل نہیں ہے اگر لوگ اپنی اپنی زندگی گزارنا شروع ہوجائیں تواور پھر میرے جیسی لڑکیاں تو زندگی فقط گزارنے کے لیے نہیں بلکہ بھرپور طریقے سے جینے کے لیے پیدا ہوتی ہیں…..

تو اس لیے میری پیاری امی جان آپ میرے لیے گھر ہی ایسا پسند کرنا جو آپ کی جھولی بیٹی کو ایسے ہی قبول کرے مجھے واٸی ہم تو نہیں بدلنے والے خود کوتمہارا کچھ نہیں ہو سکتا فرزانہ بیگم بیٹی کی طرف ایک آہہہہہ بھرتے کچن کی طرف چلنے لگیں…. _________________زنیرہ ایسی ہی تھی زندگی کو حقیقی رنگ دے کر دینے جینے والی اسے بناوٹی چیزوں بناوٹی لہجوں اور بناوٹی طور طریقوں سے ہمیشہ ہی سے الجھن رہی تھی اس کا ماننا تھا جو ہے وہ سب کے سامنے بھی ویسا ہی رہے…….

زونی کی باتیں سن سن کر فرزانہ بیگم کو ہمیشہ ہی زونی کے مستقبل نے ڈرایا تھا وہ ہمیشہ دعا کیا کرتی تھی کہ ہر بات کو ہنسی میں اڑا دینے والی ان کی معصوم بیٹی کی زندگی کا کبھی تلخیوں سے سامنا نہ ہووہ ہمیشہ ایسی ہی ہنستی مسکراتی رہے….

مستقبل کا اندیشہ پالے فرزانہ بیگم یہ بھول گئیں تھیں کہ زندگی کی تلخیاں صرف ان لوگوں کیلئے تھپڑ نما محسوس ہوتی ہیں جو زندگی کو ڈیپلی محسوس کر لیتے ہیں اور حقیقی دنیا سے زیادہ خیالی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں پر ان کی زونی نے ہمیشہ حقیقی زندگی کو ترجیح دی

ایک دن گزار جانے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کرتی تھی کہ اچھے سے دن گزر گیا زونی نے کبھی اپنی زندگی میں ماضی کی کوئی یاد نہیں دہرائی تھی اور نہ کبھی آنے والے وقت کا سوچا تھا وہ بس آج ہی میں جی کر زندگی گزارتی تھی….

_________فرحت بیگم جو کہ فرزانہ بیگم کے ہمسائے میں شروع سے ہی رہتی آرہی تھی اور آپس میں ان کی اچھی رشتہ داری تھی وہ دونوں شروع سے ہی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کی ساتھی رہی تھیں… فرحت بیگم کی ایک بیٹی امثال زارا جو کہ بڑے ماموں کی بہو تھی اور بیٹا عدنان جو یو_کے میں جاب کے سلسلے میں رہائش پذیر تھا….

زونی کو دیکھ کر فروحت بیگم کو ہمیشہ عدنان کا خیال آتا تھا ان کی دلی خواہش تھی کہ زنیرہ ان کے عدنان کی بیوی بنتی اور ان کے گھر بہو بن کر آتی…. لیکن وہ اس ڈر سے فرزانہ بیگم سے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یو_کے کے ماحول کے مطابق ہو سکتا ہے ان کا بیٹا وہی سٹیل ہو جائے وہ زنیرہ اور اس کے ماں باپ کو کوئی جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتی تھی اس لئے ہر بار بس صبر کا گھونٹ پی کر رہ جاتی….

عاقب صاحب بشرہ ( زونی کی خالہ) ہمارے ہاں زونی کے لیے آنا چاہ رہی ہیں فرزانہ بیگم عاقب صاحب کو چاہے کا کپ پکڑاتے ہوئے آگاہ کر رہی تھیں…

پر میں اس کے سسرالی مسائل کی وجہ سے نہیں چاہتی زو نی اس گھر میں جائے زونی جو سیڑھیوں سے اترتی ہوئی عاقب صاحب (زونی کے بابا) کے پاس آ رہی تھی امی کی بات سن کر وہیں کھڑی رہی…

آپ کیا کہتے ہیں اس معاملے میں فرزانہ بیگم عاقب صاحب کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی…اففففف امی جان !!آپ بھی حد کرتی ہیں ابھی تو میں ادھر گئی بھی نہیں اور آپ خالہ کے سسرالیوں کی باتیں کر رہی ہیں

زونی بات کرتے کرتے بابا کی داٸیں جانب صوفے کے بازو پر بیٹھ گٸی

بابا جان بتائیں اپنی زوجہ محترمہ کو کہ ہر گھر میں نمک اور چینی دونوں چیزیں موجود ہوتی ہیں نمک کی ضرورت پڑنے پر نمک اور چینی کی ضرورت پڑنے پر چینی کو استعمال کرکے اچھا ذائقہ لایاجاسکتاہے نمک کی جگہ چینی اور چینی کی جگہ اگر نمک استعمال کریں گے تو چیز بدذائقہ تو بنے گی ایسے ہی رشتوں میں بھی ہوتا ہے اپنی اپنی جگہ ہر بندے کی اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے اگر وہ اہمیت پہچان کر زندگی گزاریں تو زندگی ہر جگہ آسان ہوجائے گی

ہم نے تو صرف خالہ کی باتیں سن رکھی ہیں ٹھیک ہے ہمیں ادھر رشتہ نہیں کرنا لیکن ہم انہیں غلط نہیں کہہ سکتے….

پیچھے کھڑی فرحت بیگم زونی کی باتیں سن کر زیر لب مسکرا رہی تھی فرزانہ بیگم کی نظر پڑنے پر چلتی ہوئی ان کے قریب آئیں….

زونی کا منہ چومتے ہوئے کہنے لگی اللہ ایسی بیٹی ہر ایک کو نصیب کرے فرزانہ بیگم زونی جیسی بیٹی آپ لوگوں کے لئے قابل فخر ہے اور آپ کی اس قابل فخر بیٹی کو میں اپنے گھر کی زینت بنانے کی خواہش رکھتی ہوں….

فرحت بیگم رات کو بیٹے کی اچانک آمد پر بہت خوش تھیں اور اس سے زیادہ اس بات سے خوش تھیں کہ ان کا بیٹا ان کی پسند کی لڑکی سے شادی کریں کا…..

اس لیے وہ بنا کوئی لمحہ ضائع کیے اس وقت فرزانہ بیگم کے سامنے موجود تھیں…جان پہچان تو پہلے سے ہی بہت پرانی تھی یوں دیکھتے ہی دیکھتے زونی اور عدنان کا رشتہ پکا ہو گیا…

___________شادی کی شاپنگ کے لیے فرحت بیگم زونی کو ساتھ لے جانا چاہ رہی تھی تاکہ وہ ہر چیز اپنی پسند کی لے سکے زونی کی ضد پر فرزانہ کو بھی ساتھ جانا پڑا…

ہوٹل کے باہر کھڑی ایک ہی رنگ کی بہت سی گاڑیاں اور ان کے آس پاس ایک جیسا لباس پہنے بہت سے گارڈ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے کے ہوٹل کے اندر کوٸی وڈیرا خاندان سے آیا ہویا ہے زندگی تو ان جیسے لوگوں کی ہوتی ہے فرحت بیگم فرزانہ بیگم سے مخاطب ہوٸیں کہ اچانک زنیرہ بول پڑی “”

“ارے کہاں آنٹی ان جیسے لوگوں کی زندگی بھی بھلا کوٸی زندگی ہوتی ہے ساری زندگی چار گارڈ آگے اور چار پیچھے پھر بھی موت کا ڈر تلوار کی طرح گردن پر لٹکا رہتا ہے ارے زندگی تو ہمارے جیسے لوگوں کی ہی جدھر منہ کو آیا چل دیے “”

“”زنیرہ اپنی ٹون میں بولتی یہ بھول گٸی تھی کے ان کے ساتھ عدنان بھی آیا ہے امی کو آنکھیں نکلتا دیکھ زونی نے نظریں جھکا لی

جس پر عدنان کا قہقہہ بے اختیار تھا ٹھیک ہی تو کہ رہی ہے

آنٹی یہ آپ کی لاڈلی زونی اور اب ہماری بھی لاڈلی زونی فرحت بیگم مسکرا کر بولیں …..

گھر واپسی پر عدنان سے مل کر فرزانہ بیگم بھی کافی مطمئن تھیں اب انہیں زونی کے مستقبل کی کوٸی فکر نہیں تھی کیونکہ وہ جان گٸی تھیں

کے ان کی زونی ٹھیک کہتی ہے کہ ہم جس بات کا جس چیز کا اللہ جی سے گمان رکھتے ہیں وہ ویسے ہی ہمارے سامنے آتا ہے…

اور ان کی زونی کی زندگی میں بھی بہت اچھا ہونے والا تھا کیونکہ لاڈلیوں کو جب لاڈ اٹھانے والے مل جایا کرتے ہیں تو ان کی زندگی خوبصورت رنگوں سے سجا دی جاتی ہے۔

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Verified by MonsterInsights