Famous writer Shahida azam interview with novelnagri website

“ناول نگری گروپ” انٹرویو کارنر میں آج ہمارے ساتھ ایک جانی مانی ،ادبی دنیا کی نامور شخصیت محترمہ “شاہدہ اعظم”ہیں جو کسی بھی لحاظ سے تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔
معزز سامعین و قارئین۔۔! میں ہوں آپکی میزبان مہوش صدیق اور آج ہم اپنی مہمان سے انکی شخصیت کے چند پہلو جاننے کی کوشش کریں گے۔
“شاہدہ اعظم” نے اپنے رائٹنگ کیریئر کا آغاز آنلائن پلیٹ فارم سے کیا جس میں انہوں نے شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔انکی مشہور و معروف تحاریر میں بےشمار ناولز،افسانے اور ناولٹ شامل ہیں۔۔جنہوں نے ان کو شہرت کی بلندیوں کی طرف گامزن کیا۔۔
? ناولز لسٹ۔۔۔۔
1.رگ جاں سے آگے
2.تیری الفت میں ہارے
3.جہیز نہیں لوں گی
4.محبت امتحان لیتی ہے
5.وفا کے پیکر
6.رخ زیبا تیری قسم
7.میرے محرم
کنٹینیو ناول:
1.معجز نما ہے عشق(قسط وار ناول)ردا ڈائجسٹ
افسانے:
1.میں ہاری اک پل میں
2.روتی ہوئی عورت
3.پاتال
4.وہ ایک خسارہ
5.دل کا چور
بطور لکھاری ان کا لکھا گیا ایک ایک لفظ لوگوں کے ذہنوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتا ہے۔
ایک لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ”شاہدہ اعظم”اپنے گھر گرہستی کے معاملات کو بھی بہت اچھے سے سنبھال رہی ہیں۔اپنے بچوں”نوریز حسن،یشفین زاہرہ” کی تربیت کو ہر چیز پر فوقیت دیتی ہیں۔۔ کیونکہ ان کیلئے ان کے دونوں بچے اور انکا شوہر بہت معنی رکھتے ہیں۔ان کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنے کیلئے وہ زمین و آسمان ایک کر دینے کو ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔
میں نے انکی شخصیت میں ہمیشہ پیار،محبت اور اپنے رشتوں کو لے کر بہت اپنا پن دیکھا ہے۔۔۔انکی محنت اور لگن نے ہمیشہ مجھے انسپائر کیا ہے۔اپنے سے چھوٹوں کو اچھے سے گائیڈ کرنا انکی خاصیت ہے۔۔۔۔۔ہر بڑے چھوٹے کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔۔دوستوں کے ساتھ وفاداری،مخلصی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے ویب سائٹ، آن لائن میگزین، ڈائجسٹ سمیت ہر پلیٹ فارم پر اپنے اس ہنر کے ذریعے لوگوں کی داد وصول کی ہے۔۔
ان کے اعزازات کی تو ایک لمبی فہرست ہے ماشاءاللہ جسے اس ایک نشست میں بیان کرنا تھوڑا مشکل امر ہے۔۔انہوں نے اپنے اس کیریئر میں بےشمار کامیابیاں حاصل کیں۔
بہت سے لوگ اپنے کام سے کام رکھنے کی پالیسی کو اپنا کر کسی کو صحیح یا غلط نہیں ٹھہراتے لیکن شاہدہ اعظم کا شمار ان محب وطن پاکستانی لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اپنے قلم کے ذریعے حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا رہنا بخوبی جانتی ہیں۔۔انہی خصوصیات کی وجہ سے اگر انہیں ادبی دنیا کی “صدف”یعنی ایک قیمتی موتی کا نام دیا جائے تو یہ غلط نہیں ہو گا۔
کیسے مزاج ہیں؟

جی تو پھر سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔

?میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آپ کا نام شاہدہ اعظم ہے۔۔اگر زندگی میں کبھی موقع ملے تو کیا آپ اپنا کوئی اور قلمی نام رکھنا چاہیں گی؟
سب سے پہلے تو میں آپ کا بہت زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہوں گی میں اس قابل نہیں ہوں جتنی آپ نے میری تعریفیں کر دی ہیں۔ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ میرا نام شاہدہ اعظم ہی ہے۔ ہر چند کہ مجھے اپنا نام اتنا خاص پسند نہیں ہے لیکن میں نے اپنا اصل نام کو ہی ترجیح دی۔
میں اپنا اصل نام ہی رکھنا پسند کروں گی۔ کیونکہ میرے نزدیک آپ کو اپنے اصل نام سے ہی اپنی پہچان بنانی چاہیے۔

?آپ کی جائے پیدائش کیا ہے؟
گجرات۔

?دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کہاں تک حاصل کی؟
گریجویشن۔

?۔آپ کو لکھنے کا شوق کب پیدا ہوا؟ اور ایک قاری سے لکھاری بننے کی کوئی وجہ؟ کوئی انسپریشن؟
لکھنے کا شوق تو کافی سالوں سے تھا۔ لیکن مجھے اتنا یقین نہیں تھا کہ میں اچھا لکھ سکتی ہوں۔ کیونکہ جب آپ کے مائنڈ میں کوئی کہانی گردش کرتی ہے۔ تو جس طرح آپ سوچتے ہیں اس طرح اس کو لفظوں کے سانچے میں ڈھالنا تھوڑا مشکل امر ہے۔ اور اس چیز کا ہی مجھے ڈر تھا کہ جس طرح میں سوچتی ہو کیا میں اس طرح الفاظ کے ذریعے قارئین کے سامنے پیش کر پاؤں گی۔ لیکن شکر ہے اللہ کا جو بھی لکھا ہے قارئین کو کافی پسند آیا ہے۔ مختلف ڈائجسٹ سے رائٹرز کو پڑھتی تھی ادھر سے ہی انسپریشن ملی۔

?۔یہ احساس کب ہوا کہ آپ لکھ سکتی ہیں؟
میرا ذہن تو بہت سالوں سے کہانیاں بنتا ہے۔ میں اپنی چھوٹی بہنوں کو کہانیاں سناتی تھی۔ لیکن ان کہانیوں کو قلم تک آنے میں کافی دیر لگی۔

?آپ نے اپنی گھر گرہستی کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ماشاءاللہ اتنے ناولز لکھے ہیں۔۔یہ لگن ثابت کرتی ہے کہ لکھنا آپ کا ایک جنون ہے جسے آپ اپنے ساتھ ساتھ لے کر چل رہی ہیں۔۔۔اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں ۔۔کیا زندگی میں کبھی اس جنون کو ماند پڑتے دیکھا ؟
جنون کبھی ماند نہیں پڑتا۔ لیکن بعض دفعہ لکھنے کا دل نہیں کرتا۔کیونکہ آپ جس طرح کہانی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اس طرح بڑھا نہیں پاتے۔

?۔سب سے پہلے اردو ادب کی کونسی صنف پہ طبع آزمائی کی؟ اور کس حد تک کامیاب ہوئیں؟
پہلے تو افسانہ ہی لکھا تھا۔ لیکن یہ بس شروعات تھی۔
اصل کامیابی اور ایک پہچان تو “رگ جان سے آگے” کے بعد ملی۔

?۔اپنے خیال کو قرطاس پر اتارنے کے بعد اِسے کسی پلیٹ فارم تک کیسے لائیں؟ اس میں کس قسم کی مشکلات پیش آئیں؟

کافی سوچ بچار کے بعد ہی اسے قرطاس تک لائی
مشکلات یہ ہیں کہ آپ کو اس چیز کے لئے کافی وقت نکالنا پڑتا ہے۔ اور ٹائپنگ کے لئے ابھی کافی وقت چاہیے ہوتا ہے۔

?۔گھر والوں کا ردِعمل کیسا تھا جب انہیں پتہ چلا کہ آپ ایک لکھاری ہیں؟
گھر والے بس نارمل تھے البتہ میری بہنیں مجھے کافی سپورٹ کرتیں ہیں۔

?۔ کس فرد نے سب سے زیادہ سپورٹ کیا اس کیرئیر میں؟
میری چھوٹی بہن بشریٰ نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔

?۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اپنے کرداروں کے ذریعے اپنے قارئین کیلئے ایک خوبصورت روشنی بکھیرتی ہیں لیکن جب آپ لکھ رہی ہوتی ہیں تو آپکا اہم نقطۂ نظر کیا ہوتا ہے اپنے لفظوں سے روشنائی بکھیرنا یا کہانی کی جانب قاری کی توجہ مرکوز کروانا؟
میں نے جب بھی لکھا چاہے وہ افسانہ ہو یا ناول ہو میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ مثبت میسج اپنے قارئین کو دوں۔ میں نے محبت کے اوپر لکھا ضرور ہے لیکن اس میں بھی ایک مثبت میسج دینے کی کوشش کی ہے۔کوشش یہی ہوتی ہے کہ لفظوں کے ذریعے قاری کے ذہن پر ایک نقش چھوڑوں۔

?۔آپ نے سب سے پہلے لکھنے کےلئے اردو ادب کی کس صنف کو چُنا؟ اور کیوں؟
پہلے تو ناولٹ سے ہی سٹارٹ کیا تھا۔ لیکن مجھے سلسلے وار ناول لکھنا بہت پسند ہے کیونکہ اس میں آپ ہر چیز کی وضاحت کر دیتے ہیں۔

?آپ کے نزدیک اردو ادب کی کیا اہمیت ہے؟ آجکل کے رائٹرز اردو ادب کو ایک ورثہ کی طرح آگے بڑھا رہے یا اس کی شہرت کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے؟کیا اردو ادب آج محفوظ ہاتھوں میں ہے یا نہیں؟
جس قوم نے بھی ترقی کی ہے اس نے اپنی زبان کے ذریعے ہی ترقی کی ہے۔ میرے نزدیک اردو ادب کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ لیکن بہت افسوس سے مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے ہم اسے ورثے کی طرح نہیں بلکہ ایک اینٹرٹینگ کے طور پر آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس میں اینٹر ٹینگ ضرور ہونی چاہیے لیکن ادبی پہلو کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔جو کہ زیادہ تر رائٹرز بالکل بھی نہیں رکھتیں۔ آن لائن رائٹنگ کے جہاں پر فائدے ہیں اس سے زیادہ اس کے نقصانات ہیں۔ جس کو دیکھو وہ منہ اٹھا کر لکھ رہی ہے۔ اور املا کی اس قدر غلطیاں ہیں کہ پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتی کہ میں نے املا کی غلطیاں نہیں کیں مجھ سے بھی ٹائپنگ میں غلطیاں ہوگئی ہوں گی لیکن آپ یقین کریں کہ کئی ناولز میں اس قدر اردو کی غلطیاں ہوتی ہیں کہ پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔کہ اردو ادب کے ساتھ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے۔

?۔آپ نے بہت سے ناولز لکھے ہیں ماشاءاللہ۔۔۔اپنے کونسے ناول کے کس کردار کو آپ نے دل سے لکھا؟

رگ جان سے آگے کےکردار تو میں نے سارے ہی دل سے لکھے تھے لیکن میں نے جائشہ کے کردار کو بہت دل سے لکھا۔

?۔کیا آپ کی تحاریر میں حقیقت اپنی جھلک دکھاتی ہے؟
میں نے حقیقت کافی حد تک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ساتھ میں تھوڑی سی فینٹسی بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمارے ریڈرز حقیقت کو پڑھ کر بور ہو جاتے ہیں اس لیے تھوڑی فینٹسی بھی دکھانی پڑتی ہے۔

?”رگ جاں سے آگے”ناول کی کہانی بہت دلچسپ ہے ماشاءاللہ۔۔آپ نے اس کا نام خود رکھا یا کسی دوست نے ریکمنڈ کیا۔؟
میں کہتی ہوں کہ یہ خدا کی طرف سے تھا۔ بس ایسے ہی ذہن میں آیا تو میں نے رکھ دیا۔ کسی نے ریکمینڈ نہیں کیا۔

?۔آپ کو حقیقت پر لکھنا پسند ہے یا فینٹسی؟
افسانوں میں میں حقیقت لکھنے کو ترجیح دیتی ہوں جبکہ ناول میں تھوڑی فینٹسی ہونی چاہیے تاکہ ریڈرز کی دلچسپی برقرار رہے۔

?۔آپ کہانی اپنی مرضی سے لکھتی ہیں یا ویسی جیسے آپ کے قاری کہتے ہیں؟
میں اپنی مرضی سے ہی لکھتی ہوں۔ رگ جاں سے آگے لکھتے وقت بہت سارے ریڈرز مجھے مشورہ دے رہے تھے کہ میر ارسلان کی شادی جائشہ سے کروا دیں لیکن میں نے بہت سارے ریڈر کا دل توڑ دیا۔ کیونکہ جیسا میں نے سوچا تھا ویسا ہی لکھا۔ میں روایتی قسم کا لکھنا نہیں چاہتی تھی جیسا کہ آج کل رائٹرز لکھ ر ہی ہیں۔ میں ایک امیر زادہ کسی لڑکی کے پیچھے پڑ تا ہے پھر اس کو اغوا کرواتا ہے پھر ان کی شادی ہو جاتی ہے۔
ایسی کہانیوں کو اب بند ہو جانا چاہیے۔ جو نئی نسل کے ذہن خراب کر رہی ہیں۔

?۔آپ اپنے آپ کو آئندہ سالوں میں رائٹنگ کیرئیر کے حوالے سے کس مقام پر دیکھ رہی ہیں؟ کہاں تک اچیو کر پائیں گی اس فیلڈ میں؟
۔ بہت سارا لکھنا چاہتی ہوں لیکن اچھا اور معیاری لیکن میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے۔ بس کوشش یہ ہی ہے کہ معیاری لکھنے والوں میں میرا نام آئے۔پروردگار نے امید سے بڑھ کر عزت دی ہے۔اچھے لکھاریوں میں میرا نام آۓ یہ اچیو کرناچاہتی ہوں۔

?۔کبھی ایسا ہوا کہ آپ لکھنے سے اکتا گئی ہوں؟
ہاں کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے۔

?۔اپنے نڈر، بےباک تبصروں کی وجہ سے کبھی تنقید ہوئی تو آپ نے اس کا سامنا کیسے کیا؟ یا اگر آئیندہ ہوگی تو اس کے لئے خود کو تیار کیا ہے آپ نے؟
تنقید تو قسط نہ دینے پر ہی ہوتی تھی۔جس پر پہلے پہل میں ٹینشن میں آجاتی تھی۔لیکن اب مجھے پتہ ہے کہ آن لائن لکھنے پر ریڈرز ایسے ہی تنگ کرتے ہیں۔اس لیے میں ڈائجسٹ کی طرف آ گئی۔یہاں پر ایک ماہ میں ایک ہی قسط دینی پڑتی ہے۔

?۔کس ہم عصر لکھاری کو پڑھنے کا شغف رکھتی ہیں؟ اور اُس لکھاری کی کوئی خاص بات؟
انا الیاس دیبا شیخ اور بھی اچھا لکھنے والیاں ہیں لیکن پڑھنے کا اتنا ٹائم نہیں ہوتا۔اس لیے زیادہ نہں پڑھا ۔جنکو تھوڑا بہت پڑھا ہے۔ان میں یہ شامل ہیں۔دیبا شیخ کا ناول “محبت اور شجر ممنوعہ بہت اچھا ناول ہے۔پڑھ کر کافی اچھا لگا۔اب تو دیبا میری بہت اچھی دوست بھی ہے۔یہ دوستی اس ناول کی بدولت ہی پے۔کیونکہ ایک لکھاری کے مائنڈ سیٹ کا پتہ اسکی تحریر سے واضح ہوجاتا ہے۔

?کوئی نوآموز لکھاری جو آپ کو بہت پسند ہو؟جس کی کامیابی کے بارے میں آپ ابھی سے پیشین گوئی کر سکتی ہیں؟
مہوش صدیق۔آرجے

?۔آپکی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے ؟
میرا غصہ

?۔آپ کی طاقت کیا ہے؟
وہ لمحہ جب مجھے میرا پروردگار دل کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے۔یہی لمحہ میری طاقت ہے۔

?۔آپکے ذاتی مشاغل اور دلچسپیاں کیا ہیں؟
فی الحال تو حالات حاضرہ کے بارے میں ہی دیکھتی اور سنتی رہتی ہوں۔یعنی نیوز دیکھتی رہتی ہوں۔جب ٹائم ملے تو کسی نہ کسی ناول کا مطالعہ کرتی ہوں۔

?۔آپکا پسندیدہ رنگ ؟اور پسندیدہ کھانا ؟
وائٹ۔پنک۔بلیک۔بلو میرے خیال میں رنگ سارے پی اچھے ہوتے ہیں۔زیادہ ڈارک کلراتنے پسند نہیں ہیں
پسندیدہ کھانا وہی دیسی دال چاول چنے چاول۔ بریانی وغیرہ

?۔آپکا پسندیدہ شعر اور شاعر کا نام ؟

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

علامہ اقبال میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔

?ناول لکھنا پسند ہے یا افسانہ نگاری؟کس کو لکھنے میں بہت مزہ آتا ہے؟

ناول لکھنا پسند ہے۔

? آپ نے برملا عمران خان کی قیادت کو بہترین قرار دیا ہے؟کیا پی ٹی آئی ایک ایسی پارٹی ہے جس میں آپ کو پاکستان کے لوگوں کا مستقبل روشن نظر آتا ہے؟

میں عمران خان کی پکی سپورٹر ہوں۔کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ اس سے بہتر کوئی ادھر ہے پی نہیں۔اگر عمران خان سے کوئی بہتر ہوتا تو میں اسے بھی سپورٹ کرتی۔
پاکستان سے جنون کی حد تک محبت پے۔عمران خان کو سپورٹ کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ اپنے ملک سے بہت پیار کرتا ہے۔
جو ملک ہمارے ساتھ بنے وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں اور ہم ابھی تک قرضوں میں ڈوبے ہوے ہیں کیا وجہ ہے۔۔۔۔؟یہ ہی وجہ ہے کہ حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور اس ملک کا غریب ہمیشہ غربت کی چکی میں پستا گیا۔اس چیز کو لے کر دل میں تکلیف ہوتی ہے۔عمران خان کے دل میں عام آدمی کا درد موجود ہے۔اور وہ ساری دنیا میں پاکستان کی عزت کروانا چاہ رہا ہے۔

?۔ضرورت پڑنے پر کبھی اپنے قلم کو پیسوں پر ترجیح دیں گی؟
قلم میری پہلی ترجیح ہے۔پیسوں کو کبھی قلم پر ترجیح نہیں دی۔ویسے رائٹرز کو پیسے ملتے بھی نہیں ہیں۔

?۔آپکی کون سی تحریر آپکے دل کے قریب ہے؟اور کیوں؟
ساری ہی تحریریں دل کے قریب ہیں لیکن رگ جان سے آگے”۔زیادہ قریب ہے۔کیونکہ اس کی وجہ سے مجھے کافی عزت ملی ہے۔

?آپکے نزدیک دوستی کیا ہے؟اور زندگی میں مخلص دوستوں کا ہونا کتنا ضروری ہے؟
دوستی ایک بے لوث رشتہ ہے۔ اس میں غرض نہیں ہوتی۔
یہ دل کا اور احساس کا رشتہ ہوتا ہے
زندگی میں مخلص دوستوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔

?۔آپ کے ناول “میرے محرم “کا نام بہت خوبصورت ہے یقیناً کہانی بھی خوبصورت ہوگی کیا سوچ کر لکھا آپ نے یہ ناول؟ کوئی خاص پیغام جو آپ اس ناول کے ذریعے دینا چاہ رہی ہوں..۔۔۔۔۔۔؟
بہت شکریہ۔
میرے محرم ناول میں نے اس ٹاپک پر لکھا ہے کہ لڑکیوں کو ہر حال میں اپنی عزت نفس کی حفاظت کرنی چاہیے۔
نامحرموں سے بچنا چاہیے۔ یہی اس میں خاص پیغام ہے۔

?۔آپ نے ناول کا اختتام پہلے سے سوچ کر رکھا ہوتا یا وقت آنے پر کہانی اپنا اختتام خود لکھواتی ہے؟
تقریبا پہلے سے ہی سوچا ہوتا ہے لیکن اینڈ تک آنے میں واقعات میں ردوبدل ہو جاتا ہے۔ لیکن اینڈ وہی کرتی ہوں جو سوچا ہوتا ہے۔

?آپکے ناول کے نام بہت اٹریکٹ کرتے ہیں؟ یہ سارے نام آپ نے خود رکھے یا کوئی اور بھی سجیسٹ کرتا ہے؟

پہلے تو میں بہت شکریہ ادا کرتی ہوں میرے ناول کے ناموں کی تعریف کرنے پر۔ نام خود ہی رکھتی ہوں۔

?۔رائٹنگ بلاک کا شکار ہوئی ہیں کبھی؟ اس سے ایک لکھاری کیسے نمٹ سکتا ہے؟
جب ذہن ڈسٹرب ہوتا ہے تو شکار ہو جاتی ہوں۔ اس سے نمٹنے کا یہ طریقہ ہے کہ آپ اپنی ٹینشنز اور الجھنوں کو بھول جائیں اور سٹوری پر فوکس کریں۔ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ناول کے کرداروں کو ذہن میں لائیں۔ اور واقعات کی کڑی سے کڑی ملائیں۔اس سے کافی حد تک فائدہ ہوتا ہے۔

?بہت سے لکھاری جنہوں نے ایمانداری کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے ان میں سے اب بہت سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ فلاں ویب سائٹ نے ان کے حقوق سلب کر لیے فلاں نے ان کے حق کی کمائی خود کھاتے ہوئے ان کے حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں۔۔آجکل کی نیو جنریشن اس ازیت ناک صورتحال سے خود کو کیسے بچا سکتی ہے؟
میں اس کا جواب کیا دے سکتی ہوں ۔میں خود اس بات کو لے کر بہت الجھن میں ہوں۔کہ رائٹرز کے ساتھ اس طرح کا سلوک بہت ہی زیادتی ہے۔ یہ ویب سائٹس واقع پی رائٹرز کو کچھ نہیں دیتیں۔ میں خود اس چیز سے گزری ہوں۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود آپ کو دو تین ہزار پکڑا دیے جائیں تو اس سے بڑی توہین آپ کی ہو نہیں سکتی۔ بچاؤ تو اسی صورت ہو سکتا ہے کہ پہلے اس چکی میں پسو۔ تجربہ حاصل کرو پھر اپنی ویب سائٹ بناؤ ۔اور پھر کماؤ۔ لیکن رائٹرز کو مل کر اجتماعی طور پر اس چیز کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ آپس میں اتحاد کریں۔ اور ویب سائٹس کے سامنے مشترکہ مطالبہ رکھیں۔کہ آپ ہمارا استحصال نہیں کریں گے۔

?”الجھی ہوئی شخصیت سلجھی ہوئی شخصیت کو بھی الجھا دیتی ہے اس لیے الجھے ہوئے انسان سے الجھیں گے تو اپنی شخصیت کو مسخ کر دیں گے”
ماشاءاللہ بہت عمدہ الفاظ۔۔آپ نے اپنی کہانیوں کے ذریعے اردو ادب کو ایک الگ لیول تک پہنچا دیا ہے۔۔لکھتے ہوئے آپ کن چیزوں کو سب سے زیادہ مدنظر رکھتی ہیں؟

پہلے تو تعریف کرنے کا بہت شکریہ۔
یہ الفاظ اس لیے میری قلم تک آئے کیونکہ میں نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے۔ کہ جو الجھی ہوئی شخصیت ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے والی شخصیت کو بھی الجھا کر رکھ دیتی ہے۔ یعنی سلجھی ہوئی شخصیت کی اپنی شناخت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے بے وقوف لوگوں سے الجھنا نہیں چاہیے۔

?یقینا آپ ایک نڈر لڑکی ہیں۔۔بطور لکھاری کیا کبھی کسی نے آپ کے حقوق سلب کیے؟اگر ہاں تو آپ نے اس صورتحال سے خود کو کیسے باہر نکالا؟
کافی دفعہ۔ صورتحال سے نکال تو نہیں سکی۔ لیکن تجربہ حاصل کرلیا۔ اس فیلڈ میں رائٹرز کو کہا کچھ جاتا ہے اور ہوتا کچھ ہے۔

?۔کہانی خود آپنے آپ کو لکھواتی ہے یا آپ اسے لکھتے ہیں؟اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
کئی دفعہ تو کہانی خود اپنا آپ لکھواتی ہے اور کئی دفعہ آپ کو زبردستی لکھنی پڑتی ہے۔

?۔زندگی کو کس نظریے سے دیکھتی ہیں بوجھ یا خوبصورت؟ اور خوبصورت تو کس طرح سے؟ اگر بوجھ تو آخر کیوں؟
زندگی اللہ تعالی کی بہت خوبصورت نعمت ہے۔ لیکن بعض دفعہ ہماری زندگی میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے یہ ہمیں بوجھ لگنے لگتی ہے۔
جب ہماری زندگی سہل ہوتی ہے تو یہ ہمیں خوبصورت لگتی ہے۔اور جب اس میں تکلیفیں یا اذیتیں آتی ہیں تو یہ ہمیں بوجھ لگنے لگ جاتی ہے۔
ہم گنہگار انسان ہیں کمزور ہے اس لیے اللہ سے شکوے کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ بہرحال ہمیں ہر صورت میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

?”فرہاد علی شیرازی کو زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی سے محبت ہو گئی تھی کتنا خوش کن احساس تھا اور کتنی مایوس کن صورتحال تھی۔”
یہ اقتباس آپ کے ناول “تیری الفت میں ہارے “سے لیا گیا ہے۔ان الفاظ میں زندگی کی دو الگ کیفیات بیان کی گئی ہیں۔ایک ہی وقت میں دو کیفیات کو لکھنے کا دلچسپ خیال کیسے آیا؟
یہ خیال بڑا زبردست رہا۔ میری دوست دیبا شیخ نے بھی اس جملے کی کافی تعریف کی تھی۔ ایک ایسا انسان جو کافی خشک مزاج انسان تھا۔اسے محبت ہو جاتی ہے۔لیکن وہ لڑکی پہلے سے انگیجڈ ہے۔ اور روایات کے مطابق وہ لڑکی اپنے خاندان سے باہر بھی نہیں دیتے۔ اور ان سب باتوں کی فرہاد کو خبر ہے۔ اس لیے محبت ہو جانے پر تو اس کو بڑا خوش کن احساس محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب اس محبت کو پانے کے بارے میں سوچتا ہے۔تو صورتحال کافی مایوس کن ہوتی ہے۔ اس لئے دونوں کیفیات کو میں نے ایک جملے میں لکھ دیا۔

?کوئی ایسا خوشگوار اور ناخوشگوار واقعہ جو آپ بھولنا بھی چاہیں تو کبھی نہیں بھول پاتیں؟
کالج کے زمانے میں کافی خوشگوار واقعات ہوئے جو کبھی نہیں بھولتے۔
زندگی کا سب سے خوشگوار احساس مجھے تب محسوس ہوا جب میرے گھر میں بیٹی پیدا ہوئی۔ یہ میری زندگی کا خوشگوار ترین احساس تھا۔
نا خوشگوار واقعہ تو یہی ہے میری زندگی میں کہ 2019 میں مجھے کینسر ہوا۔ اور وہ وقت کافی اذیت ناک تھا۔
لیکن میں خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے صحت عطا کی۔ اور بیماری دینے پر بھی اس کا شکر ادا کرتی ہوں۔ کیونکہ اس میں میری کوئی بہتری ہی ہوگی اس لیے میں بیمار ہوئی۔

?انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔۔اگر آپ کو جائز بات کو لے کر کسی پر غصہ آئے تو اسے کیسے ہینڈل کرتی ہیں؟
مجھے ہینڈل کرنا نہیں آتا مہوش۔ بہت جذباتی قسم کی ہوں۔ اور غصہ بھی بڑی جلدی آ جاتا ہے۔ اس لئے مجھے لوگوں کو ہینڈل کرنا نہیں آتا۔ اکثر بہت زیادہ منہ پر بول جاتی ہوں۔جس سے میرے گھر والے مجھ پر کافی غصہ ہوتے ہیں۔

?آپ نے آن لائن پلیٹ فارم پر جو ناول لکھا اس کے ویوز کی تعداد ماشاءاللہ سوا لاکھ کے قریب ہے پہلے ناول پر اس قدر پذیرائی ملنے پر آپکے احساسات کیا تھے؟
بہت اچھے احساسات تھے۔ کیونکہ اللہ نے میری سوچ سے بڑھ کر مجھے پذیرائی دی۔ اسی ناول کو چار یوٹیوب چینل والوں نے بھی چوری کیا۔بس ایک چینل پر میری اجازت سے چلا۔

?۔آنے والی نئی تصنیف کا نام اور صنف؟
ابھی فی الحال لکھنا تو میں نے سٹاپ کیا ہوا تھا۔ تقریبا ایک سال پہلے صالحہ آپی سے رابطہ ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ میں ڈائجسٹ کے لئے سلسلے وار ناول لکھنا چاہتی ہوں۔ اب انھوں نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں بہت خوش ہوئی۔
اس لیے ردا ڈائجسٹ میں جون میں میرے ناول کی پہلی قسط شائع ہوئی ہے۔ ناول کا نام “معجز نما ہے عشق” ہے۔ فی الحال بس ابھی یہی لکھوں گی کیونکہ اتنی تیزی سے نہیں لکھ سکتی۔

?آپکا کوئی ایسا ناول جسے آپ سب سے پہلے کتابی صورت میں اپنی بک شیلف میں دیکھنا پسند کریں گی؟

ایک رائٹر تو اپنے سارے ناولز کو ہی کتابی شکل میں دیکھنا چاہتی ہے لیکن اب زیادہ تر آن لائن ہی لکھا جاتا ہے۔ کتاب بہت کم لوگ خریدتے ہیں۔ مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ میں اپنا کوئی ناول کتابی صورت میں لے کر آؤں۔ یہ سب کچھ حالات پہ ڈیپینڈ کرتا ہے۔

?کیسا انصاف؟ کس کے لیے انصاف۔۔؟

ویسے عجیب بات ہے کہ غریب انصاف کے لیے سالوں عدالتوں کے دھکے کھا کر بھی انصاف حاصل نہیں کر پاتا۔اور امیروں کے لیے عدالتیں رات سونے کے ٹائم بھی کھل جاتیں ہیں۔چھٹی کے دن بھی کھل جاتیں ہیں۔ اور فوری نام نہاد انصاف مل جاتا پے۔

رات کی تاریکی اس عجلت کی گواہ پے۔کہ یہاں پر دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال ہی کالی ہے۔
وقت گواہ رہنا انصاف رو رہا تھا۔اور میرے ملک کی اشرافیہ ناانصافی خرید رہی تھی۔
اور ضمیروں کی یہ خریدو فروخت ملکی تاریخ میں سنہرے حروف سے نہیں بلکہ کالے حروف سے لکھی جاۓ گی۔
اور یہ کالک رہتی دنیا تک تاریخ میں آنے والی نسلوں کو بتائی جاۓ گی۔
Justice against blind justice

کون دے گا انصاف۔پتہ نہیں۔لیکن خدا ہے جو سب دیکھ رہا ہے۔
خدا میرے ملک کو اپنے حفظ وامان میں رکھے۔امید ابھی باقی ہے۔
سوئی ہوئی قوم کا جگانے والے کو سلانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔لیکن وہ اب بھی کھڑا ہے۔وقت کے فرعونوں کے خلاف۔

وقت گواہ رہنا
وہ کھڑا تھا
وہ کھڑا پے
امید باقی ہے
نوید باقی ہے
We are with you imran khan

9 april Black day in Pakistan history

 #Imported government unacceptable

یہ آپکے الفاظ ہیں۔۔۔ملک سے باہر ہونے کے باوجود آپ نے اس ٹرینڈ کو بہت سپورٹ کیا۔اس کی کوئی خاص وجہ؟

کیونکہ ظلم کے خلاف وہ کھڑا تھا وہ کھڑا ہے وہ کھڑا رہے گا اور ہم اس کے پیچھے کھڑے ہیں۔ کوئی بھی با ضمیر انسان ان کرپشن سے لتھڑے ہوئے سیاستدانوں کو سپورٹ نہیں کرے گا۔
تقریبا تین ماہ ہو گئے یہ لوگ عمران خان کی کرپشن نکالنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ کیونکہ اس نے ایک روپے کی کرپشن نہیں کی۔

?۔آپ نے زندگی اور حالات سے کیا سیکھا؟
زندگی بہت مختصر ہے۔ انسان کی زندگی میں اچھے برے حالات آتے جاتے رہتے ہیں۔ میں نے یہی سیکھا ہے کہ وقت رکتا نہیں ہے۔ لیکن آپ نے وہ وقت کیسے گزارا یہ ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ اس لیے خدا کا ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے چاہے جیسے بھی حالات ہوں۔

?۔اپنے قلم کیلئے کوئی قیمتی الفاظ؟
قیمتی الفاظ تو وہ ہوتے ہیں جو آپ کے قلم کے لیے کوئی دوسرا ادا کرے۔ قیمتی الفاظ تو یہی ہیں کہ آپ کی قلم ہی آپ کی طاقت ہوتی ہے۔ اور اس طاقت کی انرجی اچھے اور معیاری پڑھنے والے ریڈرز ہی ہوتے ہیں۔

?۔زندگی جینے کا کوئی ایک قول/ اصول بتائیں..
قناعت۔ حالات جیسے بھی ہوں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

?۔قارئین کی نذر کوئی پیغام؟
میں یہی پیغام دینا چاہوں گی کہ اچھا ادب پڑھیں۔
جو رائٹرز ولگیرٹی لکھ رہی ہیں۔ ان کی حوصلہ شکنی کریں۔ کیونکہ ایسی رائٹرز پڑھنے والوں کی وجہ سے ہی ترقی کرتی ہیں۔ جب آپ لوگ ان جیسی رائٹرز کو پڑھنا چھوڑ دیں گے تو پھر یہ بھی اس طرح کا لکھنا چھوڑ دیں گی۔

?۔ناول نگری گروپ کے لئے چند الفاظ۔۔
آپ کے گروپ کا نام کافی اچھا ہے۔ اللہ تعالی آپ کو دن دگنی اور رات چگنی ترقی دے۔ اور مہوش صدیق جیسی محنتی لڑکی جس گروپ میں چلی جاۓ۔وہ گروپ ان شاءاللہ بہت ترقی کرے گا۔
بس یہ کہنا چاہوں گی کہ معیاری رائٹرز کو پروموٹ کریں۔

تو یہ تھیں مشہور و معروف رائٹر “شاہدہ اعظم”جنھیں کسی تعریف کی ضرورت نہیں،شاہدہ صاحبہ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر ہمیں دیا اور ہماری اس نششت کا حصہ بنیں۔

آپ کے گروپ کا اور آپ کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے اس قابل سمجھا۔اللہ آپ کو بہت زیادہ ترقی دے آمین۔

نوازش مہوش صدیق!
اب مجھے اور شاہدہ اعظم کو اجازت دیں،اللہ حافظ
معزز قارئین۔۔! اگر آپ ان کی شخصیت کے بارے میں مزید سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹ باکس میں بتاتے جائیں ہم وہ سوال بھی اپنے مہمانوں تک پہنچائیں گے اور ہم امید کرتے ہیں ہمارے مہمان آپ کے ہر سوال کا جواب ضرور دیں گے۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ شاہدہ اعظم آپ نے ہمارے گروپ کے لئے وقت نکالا۔
فی امان اللہ ❤️

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Verified by MonsterInsights