Qadar Or Qabar Heart Touching Story By Yusra Kanwal

Qadar Or Qabar Heart Touching Story By Yusra Kanwal

#کہانی#قدر_اور_قبر

#بقلم_یسریٰ_کنول

“بابا ایک بات بتاٸیں قدر اور قبر ایک دوسرے سے کیسے ملتے ہیں؟” ارضماء نے بابا سے پوچھا جو اس کی ہر بات کا جواب بہت خوبصورت انداز اور آسان الفاظ میں دیا کرتے تھے

“بچے قدر اور قبر ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ یہ دونوں چیزیں ہی انسانوں کو مرنے کے بعد ملتی ہیں۔ ارضماء جب تک ہم زندہ ہوتے ہیں تو لوگ ہماری قدر نہیں کرتے جیسے ایک انسان کی کرنی چاہیے۔ لوگ ہمارے زندگی میں ہمیں سناتے ہیں برا بھلا کہتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے ہم ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں لیکن جب ہم مرجاتے ہیں تو یہی لوگ رونے آۓ ہوۓ ہوتے ہیں۔ اس وقت انہی لوگوں کو ہماری اچھاٸیاں یاد آرہی ہوتی ہیں”

“بابا یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟” “بیٹا احساس کی کمی سے بدتر کوٸی کمی نہیں ہوتی۔احساس ہی تو انسان اور حیوان میں فرق کیے رکھتا ہے۔ آج کے دور میں انسانوں میں احساس کی کمی ہے بس اور کچھ نہیں۔ جب تک ہم زندہ ہیں نہ تب تک کسی کی آنکھ کا تارہ بننا ہمارے لیے بہت مشکل ہے لیکن جیسے ہی ہم مرتے ہیں ہر ایک کی آنکھ کا تارہ بن جاتے ہیں اس وقت ہر کسی کو ہمارا خیال اور احساس ہوتا لیکن پھر کوٸی فاٸدہ نہیں ہوتا۔ جانے والا جاچکا ہوتا ہے اور پیچھے رونے والے روتے رہ جاتے ہیں۔میری بچی قدر اور قبر دو ایسی چیزیں ہیں جن کی آپ جیتے جی کتنی ہی خواہش کیوں نہ کرلوں ، اصل میں یہ آپ کو مرنے کے بعد ہی ملتی ہیں”

“بابا ایک انسان دوسرے انسان کے لیے مکمل طور پہ کب اچھا ہوسکتا ہے؟” اس کے سوال پہ وہ ہلکا سا مسکراۓ۔ وہ ایسے ہی سوال کیا کرتی تھی اور ان کا فرض تھا اسے سب سمجھانا۔”کبھی بھی نہیں ارضماء! انسان ایک دوسرے کے لیے مکمل اچھے بن ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ ہر انسان کو دوسرے انسان سے فرشتوں جیسی توقعات ہیں اور ہماری قسمت کہ ہم انسان ہیں فرشتے نہیں۔ میری باتیں یاد رکھنا بیٹا زندگی میں انسانوں کی قدر کرنا تاکہ ان کے چلے جانے کے بعد کوٸی پچھتاوہ نہ ہو۔ یہ لوگ جو جیتے جی کسی کو سکون نہیں لینے دیتے اور ان کی میت پہ آکے بین ڈال رہے ہوتے ہیں یہ منافقت کی چلتی پھرتی مثالیں ہیں۔ ان سے کوٸی پوچھے کہ فلاح انسان جب زندہ تھا تب تم نے اس کے لیے کیا کِیا؟

کتنا اس کے پاس آۓ؟ کتنا اس کا احساس کیا؟ ہم دوسروں کو باآسانی کہتے ہیں کہ تم ایسے ہو ویسے ہو تم بدل گٸے ہو پہلے جیسے نہیں رہے۔ کیا کبھی ہم نے ان سے پوچھا کی تم کیوں بدل گٸے ہو؟ کبھی وجہ جاننی چاہی ان کے رویہ کی؟ ہم صرف اپنی سنانے والی قوم ہیں دوسروں کی سنی نہیں جاتی ہم سے۔

قدر یہی ہوتی ہے بیٹا کہ زندہ انسانوں کو سنوں ان کے دل کی سنوں۔ کسی کی زندگی آسان بناٶ جتنی بنا سکتے ہو۔ “”میں آپ کی باتوں کو سمجھ گٸی ہوں بابا اور ان شاءاللہ عمل بھی کرونگی””بچے قدر کا *د* کہتا ہے کہ دل سے قدر کرو اور قبر کا *ب* کہتا ہے کہ بعد میں کرنا فضول ہے””جانتے ہو تم برے کب تک ہو؟جب تک تم اس زمین کے اوپر ہویہ زمین حد ہے تمھارے برا ہونے کیجب اس زمین کے اندر چلے جاٶ گے اسے پار کرجاٶ گے تب تم اچھے بن جاٶ گے ہر کسی کے لیےعموماً ایسا ہوتا ہے کہ جو انسان کسی چیز کی یا کسی کام کی حد پار کردے وہ برا ہوجاتا ہے لیکن زندگی کی حد جب پار کردی جاۓ تب آپ سب کے لیے اچھے بن جاتے ہیں“

سچ ہے نہ پھر قدر اور قبر مرنے کے بعد ہر صورت ملتی ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Verified by MonsterInsights