Sukoon Drama Sperhit Review by Mehwish Siddique

Sukoon Drama Sperhit Review by Mehwish Siddique

اگر آئینہ کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی۔ سامنے رئیل حمدان صاحب ہوتے تو صورتحال یقیناً مختلف ہوتی۔وہ کیسے؟میں آپ کو بتاتی ہوں۔چونکہ میں بھی ایک چنی منی سی لکھاری ہوں زیادہ وقت نہیں ملتا۔۔اس لیے ڈرامے نہیں دیکھتی لیکن

“گھر والوں کے ساتھ بیٹھے بیٹھے اچانک اس ڈرامے “سکون” کی کچھ جھلکیاں دیکھنے کو ملیں جس پر آج بات کر رہی ہوں۔

آئینہ صاحبہ شرٹ استری کرنے گئی وہاں پہ کرنٹ لگوا لیا۔۔پاستے میں کالی مرچیں ڈالنے لگی تو ہاتھ جلا لیا۔ حمدان صاحب چونکہ ہیرو ٹھہرے انہوں نے جلدی سے آگے بڑھتے مرہم لگایا۔

اگر یہی سب کچھ حقیقی زندگی میں ہوتا اور بار بار ہوتا تو مرہم لگانے کے ساتھ ساتھ کچھ طنزیہ جملے بھی سننے کو ملتے۔

اگر بندہ عقل سے پیدل ہو تو پھر اتنی بڑی بڑی ڈینگیں مارنے کی ضرورت نہیں ہوتی چپ چاپ ایک جگہ پر بیٹھ جانا چاہیے۔

مصباح میم کا ڈرامہ ایک سوفٹ،سویٹ لو سٹوری ہے جس میں آجکل کے ٹیپیکل ساس بہو والی سازشیں دیکھنے کو نہیں ملیں۔سونے پر سہاگا اچھے تھیم کے ساتھ ساتھ کاسٹ کا انتخاب بھی اچھا ہے۔

احسن خان اور ثناء جاوید پرسنلی میرے فیورٹ اداکار ہیں۔احسن خان مجھے اس لیے اچھے لگتے ہیں کیونکہ ان کے ایک انٹرویو میں میں نے سنا تھا وہ کہہ رہے تھے میرے بیوی،بچے جب مرضی اٹھیں کوئی مسئلہ نہیں میں ناشتہ اپنی ماں کے ساتھ کرتا ہوں۔

جب بھی خود کو تھکا محسوس کرتا ہوں اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کے انکے پاس لیٹ جاتا ہوں۔یہ عادت میرے خرم بھائی کی بھی ہے۔وہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں اس لیے انہیں دیکھتے مجھے اپنے بھائی کی یاد آتی ہے۔اب آتے ہیں ڈرامے کی تھیم کی طرف جس میں لڑکیوں کو بتایا گیا ہے کہ ہر چکنی چپڑی باتیں کرنے والے کے پیچھے نہیں بھاگتے۔

ایسے لڑکے لڑکیوں کو چیلنج کے طور پر لیتے ہیں جس طرح رضا نے کیا اور پھر آخر میں ایسے انجان بن جاتے ہیں جیسے کہ کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔بیچاری لڑکیاں انکی وقت گزاری کو محبت سمجھ کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار ہو جاتی ہیں۔ضروری نہیں ہر کسی کی قسمت آئینہ جیسی ہو جس کو اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود حمدان جیسا لائف پارٹنر مل گیا۔

اگر حقیقی زندگی ہوتی تو 95 فیصد چانسز ہوتے کہ آپکے نصیب میں بھی عثمان جیسا شوہر لکھ دیا جاتا جو روز آپکو آپکے ماضی کے طعنے دے دے کر آپکا جینا دوبھر کر دیتا۔ کچھ بچے بچیاں گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔بدلے میں انکے پاس دلیل ہوتی ہے کہ ہم تو بالغ ہیں۔۔اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔۔

ہمارا تعلق ناجائز نہیں ہم تو نکاح کر کے ساتھ رہ رہے ہیں۔خدا کے بندو!ولی کے بغیر نکاح ہوتا ہی نہیں۔جائز ناجائز تو پھر بعد کی بات ہے۔

اگر اتنی ہی سچی محبت ہے تو اس لو میرج کو ارینج میرج میں بدلیں۔لڑکے سے کہیں ماں باپ کو بھیجو۔۔رشتہ لے کر آئیں اور سب گھر والوں کی موجودگی میں عزت سے رخصت کروائیں۔

جہاں تک رہی گڑیا کے کردار کی بات۔ایسی محبت کا کیا فائدہ جو زبردستی حاصل کی جائے۔نصیب میں جو لکھا ہے وہ مل ہی جاتا ہے۔

“سچی محبت کو حاصل کرنے کے لیے پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے۔۔یہ نعمت تو رب کی کرم نوازی پر ہی ہمیں مل سکتی ہے وہ بھی صرف تب جب وہ ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہو۔یہ تو قسمت کا کھیل ہے ضروری نہیں ہے زندگی میں ہمیں وہ سب ملے جو ہم چاہیں۔۔ہماری چاہت سے بڑھ کر بھی ایک چیز ہوتی ہے۔۔وہ ہے مقدر۔

ہماری تقدیر میں لکھا گیا نوالہ کوئی بھی ہم سے چھین نہیں سکتا بھلے وہ ایڑی چوٹی کا زور کیوں نہ لگا لے۔اگر میرے نصیب میں کوئی چیز لکھی ہے تو اسے چاہنے کے باوجود کوئی اور اپنا نہیں بنا سکے گا اور اگر میرے نصیب میں کوئی چیز لکھی ہی نہیں تو میں اسے چاہنے کے باوجود اپنا نہیں بنا سکوں گی۔

اگر اس کا ملنا تقدیر میں ہی نہیں لکھا گیا تو ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر بھلے ہی کائنات کو درہم برہم کیوں نہ کر لیں۔۔ہم اسے کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔میرا ماننا ہے محبت ایسے پنچھی سے کرو جو آزادی ملنے کے باوجود تمہاری قید میں ہی رہنا پسند کرے۔

“اقتباس ماخوذ:ناول#

محبت_سے_خدا_تک_کا_سفر

# مہوش_صدیق

اور ویسے بھی مجھے لگتا ہے ارینج میرج ہر لحاظ سے بہتر ہے بندہ جب کوئی غلطی کرے تو آئمہ کی طرح آخر میں یہ کہہ تو سکتا ہے نا۔

“یہ نمونہ آپ نے ہی پسند کیا ہے میں نے نہیں”ہاہاہاہا۔

آپ سب کو ریویو کیسا لگا؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے کا

اظہار ضرور کیجئے گا۔بہت شکریہ۔

ازقلم:مہوش صدیق

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Verified by MonsterInsights